نیویارک 6 مارچ(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) امریکی ریاست سیٹل میں پولیس ایک سکھ شخص پرگولی چلانے والے فرد کو تلاش کر رہی ہے جس نے گولی چلانے سے قبل اُس کو کہا تھا کہ 'اپنے ملک واپس جاؤ۔تفصیلات کے مطابق حملہ آور نے انڈین نژاد امریکی شہری سے اْس کے گھر کے باہر ملاقات کی اور گولی مارنے سے قبل کچھ گفتگوبھی کی۔بتایاجا رہا ہے کہ حملہ آور سفید فام اور مضبوط ڈیل ڈول کا حامل تھا جبکہ اس کا قد چھ فٹ بتایا گیا ہے۔ مزید یہ بھی کہاگیاہے کہ حملہ آورنے چہرے پر ماسک پہنا ہوا تھا۔یاد رہے کہ پچھلے مہینے امریکی ریاست کنساس میں دو انڈین اینجینئرزپرفائرنگ کی گئی تھی جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک ہو گیا تھا اور اس کے بعد انڈیا میں کافی احتجاج بھی کیا گیا تھا۔انڈیاکی وزیرخارجہ سشماسوراج نے بتایا کہ انھوں نے زخمی ہونے والا سکھ شخص ہسپتال میں ہے اور اس کی جان خطرے سے باہرہے۔ انھوں نے اس شخص کے والدسے بھی بات کی۔سیٹل کے علاقے کینٹ جہاں یہ واقع رونما ہوا تھا وہاں اتوار کو میڈیاسے بات کرتے ہوئے پولیس افسرکین تھامس نے کہاکہ یہ حملہ ’’موقع پرست جرم‘‘ کے زمرے میں آتا ہے۔پولیس نے ایف بی آئی اور دیگر قانون نافذکرنے والے اداروں سے بھی اس حملہ آور کو ڈھونڈنے میں مدد طلب کر لی ہے اور اس حملے کو 'نفرت آمیز جرم' کے طورپرتصورکیاجائے گا۔امریکہ میں سکھوں کے ایک گروپ سکھ کولیشن نے پہلے ہی اس حملے کو نفرت آمیز جرم قرار دیا تھا۔اپنے بیان میں گروپ نے کہا کہ: 'ہم اس حملے کے بعد مقامی اداروں کی کوششوں کو سراہتے ہیں لیکن یہ ضروری ہے کہ ہمارے قومی لیڈر اس نوعیت کے نفرت آمیز جرائم روکنے کو اپنی پہلی ترجیع بنائیں۔ سیٹل میں سکھ برادری کی رہنما جسمیت سنگھ کا کہنا ہے کہ: 'اس واقع کو سکھ برادری کے خلاف نفرت آمیز جرم کے طور پر تصور کرنا نہایت ضروری ہے کیونکہ اگر ہمارے سرکاری ادارے ایسے جرائم کو نفرت آمیز نہیں سمجھیں گے، ہم اس مسئلے کو حل نہیں کر سکتے۔خیال رہے کہ امریکہ میں انڈین برادری نے صدر ٹرمپ کے مسلمانوں کے خلاف بیانات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ دوسری جانب سکھ برادری کے افراد کو کئی دفعہ مسلمان ہونے کے شبہ میں نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ 11 ستمبر 2001 کے بعد بھی خبریں آئی تھیں کہ سکھوں پر حملے کیے گئے ہیں۔اس کے علاوہ ایک اور واقع میں انڈین نڑاد امریکی شہری ہریش پٹیل کو ریاست ساؤتھ کیرولینا میں قتل کر دیا گیا تھا۔ ہریش پٹیل ایک کریانے کی دکان کے مالک تھے۔ انڈیا کے خبررساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا نے علاقے کے پولیس شیرف بیری پالے کا بیان جاری کیاجنھوں نے کہاکہ ابھی تک ایسے کوئی شواہدنہیں ملے ہیں جس سے یہ ظاہر ہو کہ یہ جرم نسلی بنیادوں پرکیاگیاہو۔